مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ادارے کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ برازیل کی جنوب مشرقی ریاست میناس جیرس میں خام لوہے کی کان پر قائم ڈیم ٹوٹنے سے ہلاکتوں کی تعداد 40 ہوگئی جبکہ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ریسکیو اہلکار کیچڑ میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں اور مٹی ہٹانے والی مشینری کی مدد سے کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جمعہ کے روز برازیل کی ریاست میناس جیرس میں بروماڈنہیو نامی شہر کے قریب مائننگ کمپلیکس کے ملازمین دوپہر کا کھانا کھارہے تھے کہ کان کن کمپنی ’ویل‘ کے زیر ملکیت ڈیم ٹوٹنے سے مائننگ کمپلیکس مٹی کے ڈھیر میں دفن ہوگیا، ڈیم ٹوٹنے کے نتیجے میں 3 سو افرد تاحال لاپتہ ہیں، درجنوں گھر بھی تباہ ہوئے جبکہ متعدد گاڑیاں اور بسیں مٹی، لوہے کے ذرات اور پانی میں بہہ گئیں۔
حکام نے بارشوں کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، میناس جیرس کے گورنر رومیو زیما نے حادثے کے ذمہ داران کو سزا دینے کا وعدہ کیا ہے۔ گزشتہ روز 43 افراد کو زندہ نکالنے کے بعد مزید افراد کے زندہ بچنے کی امید ظاہر کی جارہی تھی۔ تاہم ویل کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ ان کے 2 سو سے زائد ملازمین لاپتہ ہیں جبکہ فائر حکام کے اندازے کے مطابق 3 سو قریب افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
آپ کا تبصرہ